کسی اور کی طرف سے صدقہ کرنا
سوال
کیا صدقہ کسی اور کی طرف سے بھی دیا جا سکتا ہے؟
جواب
زندوں اورمردوں کی طرف سے نفلی صدقات کرنا جائز ہے، نفلی صدقات کا ثواب ان کو پہنچتا ہے۔
فتاوی شامی میں ہے:
"وفي البحر: من صام أو صلى أو تصدق وجعل ثوابه لغيره من الأموات والأحياء جاز، ويصل ثوابها إليهم عند أهل السنة والجماعة كذا في البدائع."
(کتاب الصلاۃ،باب صلاۃ الجنازہ،مطلب في القراءة للميت وإهداء ثوابها له،ج2،ص243،ط؛سعید)
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
فتویٰ نمبر
144312100325
تاریخ06-07-2022

