بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بیوی کی بھتیجی سے ناجائز تعلقات رکھنے کا حکم

سوال

اگر بیوی کی بھتیجی سے ناجائز تعلق ہو جائے، تو اس پر شریعت کا کیا حکم ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اپنی بیوی کی بھتیجی کے ساتھ بھی ناجائز  تعلق قائم کرنا  حرام اور ناجائز ہے، اس پر دونوں کو سچے دل سے توبہ کرنا لازم ہے،  اور دونوں پر پردہ کی پابندی کرنا بھی ضروری ہے، تاہم بیوی کی بھتیجی سے ناجائز تعلق قائم کرنےکی وجہ  سے آپ  کی بیوی آپ پر حرام نہ ہوگی، البتہ بیوی کی بھتیجی کو ایک حیض آنے تک اپنی بیوی سے صحبت کرنا جائز نہیں ہوگا، اور اگر بیوی کی بھتیجی حاملہ ہوتو اس صورت میں ولادت تک اپنی بیوی سے تعلق قائم کرنا جائز نہیں ہوگا۔

النتف فی الفتاویٰ للسغدی میں ہے:

"والخامس عشر اذا وطأ ذات محرم من امرأته ممن لا يحرم عليه بزنا فانه لا يطأ امرأته حتى يستبرئ الموطوءة بحيضة لانه لا يحل له رحمان محرمان فيهما ماؤه."

(کتاب النکاح، الموانع التي في الملك، ج:1، ص:294، ط:دار الفرقان)

 فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144312100285
تاریخ05-07-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں