بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

صاحب استطاعت شخص کا اپنے نام پر قربانی کرنے کے بجائے والد مرحوم کے نام قربانی کرنا

سوال

ایک شخص صاحبِ استطاعت ہے اور وہ اپنے نام کی قربانی کرنے کی بجائے مرحوم والد کی طرف سے کردے تو آیا یہ قربانی درست ہے یا اپنے نام کا حصہ بھی لازمی ہے؟

جواب

صورت مسئولہ میں جس شخص کے ذمہ قربانی کرنا واجب ہو اسے چاہیے پہلے اپنی واجب قربانی کرے، اس کے بعد اگر استطاعت ہو اور   والدِ مرحوم کے ایصالِ ثواب کی غرض سے قربانی کرنا چاہے تو کرسکتا ہے۔

تاہم اگر والد مرحوم کی طرف سے قربانی کی اور اس میں  اپنی واجب قربانی کی نیت نہیں کی تو  بھی قربانی کرنے والے کی طرف سے ہی  یہ واجب قربانی شمار ہو گی، والد مرحوم کو محض ثواب حاصل ہوگا۔

فتاوی شامی میں ہے :

"قوله: وعن میت أي لو ضحی عن میت وارثه بأمره ألزمه بالتصدیق بها وعدم الأکل منها، وإن تبرع بها عنه له الأکل؛ لأنه یقع علی ملك الذابح والثواب للمیت؛ ولهذا لو کان علی الذابح واحدة سقطت عنه أضحیته، کما في الأجناس. قال الشرنبلالي: لکن في سقوط الأضحیة عنه، تأمل. أقول: صرح في فتح القدیر في الحج عن الغیر بلا أمر أنه یقع عن الفاعل فیسقط به الفرض عنه وللآخر الثواب، فراجعه".

(كتاب الاضحية ، فروع لون أضحيته...،6/ 335،ط: سعید)

 فتاوی قاضی خان میں ہے:

"ولو ضحی عن میت من مال نفسه بغیر أمر المیت جاز، وله أن یتناول منه ولایلزمه أن یتصدق به؛ لأنها لم تصر ملکًا للمیت؛ بل الذبح حصل علی ملکه، ولهذا لو کان علی الذابح أضحیة سقطت عنه".

(كتاب الأضحية ، فصل في ما يجوز فى الضحايا..3/ 239، ط: دارالكتب العلمية)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144312100279
تاریخ05-07-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں