والدین کی طرف سے نفلی قربانی کاحکم
سوال
اپنی نفلی قربانی افضل ہے یا والد مرحوم کی طرف سے نفلی قربانی کرنا افضل ہے؟
جواب
اپنی واجب قربانی کے علاوہ اپنے والد مرحوم یا نبی کریم ﷺ کے لیے ایصالِ ثواب کرنا باعثِ ثواب ہے، اپنی واجب قربانی کے علاوہ نفلی قربانی کرنے سے بہتر ہے کہ والدین یا نبی کریم ﷺ کی جانب سے قربانی کرے۔
فتاوی شامی میں ہے :
'' وقد صح «أن رسول الله صلى الله عليه وسلم ضحى بكبشين: أحدهما عن نفسه والآخر عمن لم يذبح من أمته»، وإن كان منهم من قد مات قبل أن يذبح''.
(كتاب الاضحية،6/ 326،سعيد)
فتاوی شامی میں ہے:
"من ضحى عن الميت يصنع كما يصنع في أضحية نفسه من التصدق والأكل والأجر للميت والملك للذابح. قال الصدر: والمختار أنه إن بأمر الميت لايأكل منها وإلا يأكل، بزازية، وسيذكره في النظم".
(كتاب الأضحية ،6/ 333،ط: سعيد)
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

