بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بیوی کی طرف سے قربانی کرنا

سوال

بیوی کی قربانی خاوند کر سکتا ہے کیا؟ سونے کی ملکیت وہ بیوی کی ہے اور قربانی خاوند کرے گا یا عورت؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں جب بیوی صاحب نصاب ہے تو قربانی اصلا اسی پر لازم ہے ،البتہ   خاوند اگر  اپنی خوشی ورضامندی سے اپنی رقم  سے اپنی قربانی کے ساتھ اپنی بیوی کی طرف سے اسے بتا کر ،اس کی اجازت سے قربانی کرنا چاہے تو  اس کی طرف سے قربانی کرنا جائز ہے اور یہ قربانی اس کی بیوی کی طرف سےادا ہوجائے گی، اور بیوی پر الگ سے اپنے پیسوں سے  دوبارہ قربانی کرنا لازم نہیں ہوگی۔  

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"ولو ضحى ببدنة عن نفسه وعرسه وأولاده ليس هذا في ظاهر الرواية، وقال الحسن بن زياد في كتاب الأضحية: إن كان أولاده صغاراً جاز عنه وعنهم جميعاً في قول أبي حنيفة وأبي يوسف - رحمهما الله تعالى -، وإن كانوا كباراً إن فعل بأمرهم جاز عن الكل في قول أبي حنيفة وأبي يوسف رحمهما الله تعالى". 

(الباب السابع في التضحية عن الغير وفي التضحية بشاة الغير عن نفسه، کتاب الاضحیۃ، جلد 5 ص:302،ط: دار الفکر بیروت)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144312100256
تاریخ05-07-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں