بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

فراخئ رزق کا وظیفہ کرنے میں کوئی کیفیت مخصوص ہے یا نہیں؟

سوال

 فجر کی نماز کے بعد ستر مرتبہ پابندی سے یہ آیت "اَللَّهُ لَطِيفٌ بِعِبَادِهِ يَرْزُقُ مَن يَشَاءُ وَهُوَ الْقَوِيُّ العَزِيزُ" پڑھنے کا ذکر کیا جاتا ہے تو کیا ضروری ہے کہ فرض پڑھ کر وہیں بیٹھ کر اسے پڑھا جاۓ؟ کیا گھر آکر پڑھنے سے فضیلت میں کمی واقع ہوتی ہے؟

جواب

فراخئ رزق کے لیے فجر کی نماز کے بعد ستر مرتبہ مذکورہ آیت کا ورد اپنی جگہ سے اٹھنے سے پہلے کیا جائے یا گھر جاکر کیا جائے دونوں طرح سے جائز ہے، حضرت تھانوی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ’’اعمالِ قرانی‘‘ (ص:35،ط: دارالاشاعت) میں اور مفتی محمد شفیع عثمانی رحمہ اللہ نے ’’معارف القرآن‘‘ میں اس وظیفے کے لیے جگہ سے اٹھنے سے پہلے کی تخصیص ذکر نہیں کی ہے، باقی جو حضرات جگہ کی تخصیص کرتے ہیں وہ غالباً تجربے کی بنیاد پر ایسا کرتے ہیں، گویا ان کے تجربے کے مطابق  مخصوص کیفیت کے ساتھ یہ وظیفہ کرنا زیادہ مفید ہے۔

معارف القرآن میں ہے:

’’مولانا شاہ عبدالغنی پھولپوری رحمہ اللہ نے فرمایا کہ حضرت حاجی امداداللہ رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ جو شخص صبح کو ستر مرتبہ پابندی سے یہ آیت پڑھا کرے وہ رزق کی تنگی سے محفوظ رہے گا، اور فرمایا کہ بہت مجرب عمل ہے۔‘‘ 

(سورۃ الشوری،آیت نمبر:19، ج:7، ص: 687)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144312100222
تاریخ05-07-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں