بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

1 جُمادى الأولى 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حالت احرام میں چشمہ پہننا

سوال

حالت احرام میں چشمہ پہننے کا حکم کیا ہے؟

جواب

حالتِ احرام میں چشمہ پہننا جائز ہے۔

بدائع الصنائع میں ہے:

"فالمحرم لا يلبس المخيط جملة، ولا قميصا ولا قباء، ولا جبة، ولا سراويل، ولا عمامة، ولا قلنسوة، ولا يلبس خفين إلا أن يجد نعلين، فلا بأس أن يقطعهما أسفل الكعبين فيلبسهما".

(كتاب الحج، فصل:وأما بيان ما يحظره الإحرام وما لا يحظره، 2/ 183، ط: سعيد)

فتاویٰ دار العلوم دیوبند میں ہے:

"سوال: محرم چشمہ لگا سکتا ہے یا نہیں؟

جواب: لگا سکتا ہے۔ فقط"۔

(کتاب المناسک، چوتھا باب: جنایات، 6/339، ط: دار الاشاعت)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144312100210
تاریخ05-07-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں