بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

تین دن نوکری پر لیٹ جانے کی وجہ سے ایک دن کی تنخواہ کاٹنے کا حکم

سوال

 ہمارے ادارے میں تین دن مسلسل معمولی سا لیٹ آنے پر ایک یوم کی مکمل اجرت سیلری سے کاٹ لی جاتی ہے، گذشتہ ماہ ۳ ہزار روپے کاٹے گئے ،کیا ادارے کی انتظامیہ کااس طرح کرنا جائز ہے ؟کہ بندے کی ایک دن کی مکمل محنت کی اجرت سے محروم کردیا جائے۔،اکثر اداروں میں ملازم جتنی دیر لیٹ ہوتا ہے، اس دن کی اجرت کے حساب سے تاخیری منٹ کے پیسے کاٹ لیے جاتے   ہیں، کیا یہ درست ہے؟

جواب

 اگر کوئی ادارہ یا  کمپنی یہ ضابطہ بناتی ہے کہ تین دن لیٹ جانے کی وجہ سے ایک دن کی تنخواہ کٹ جائے گی، تو  یہ ضابطہ شرعاً درست نہیں، تین دن تاخیر سے آنے پر  پورے ایک دن کی تنخواہ کاٹنا جائز نہیں ؛ اس لیے ملازم نے جتنا وقت دیا ہے اتنے وقت کی تنخواہ کا وہ مستحق ہے۔

      البحر الرائق میں ہے:

"وفي شرح الآثار: التعزير بالمال كان في ابتداء الإسلام ثم نسخ. والحاصل أن المذهب عدم التعزير بأخذ المال".

(فصل فی التعزیر، ج:5، ص:41، ط: سعید)

فتاوی شامی میں ہے:

"والأجرة إنما تكون ‌في ‌مقابلة ‌العمل."

(مطلب أنفق على معتدة الغير،156/3،ط:ايچ ايم سعيد)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144312100199
تاریخ05-07-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں