بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

1 جُمادى الأولى 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حاجی قربانی کی استطاعت نہ رکھتا ہو تو اس کا حکم

سوال

 جو حج کرنے جاتے ہیں، اگر ان کو قربانی کرنے کے  لیے استطاعت نہ ہو،  استطاعت نہ ہونے کی صورت میں اب وہ  ان حالات میں کیا  کریں؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں حاجی اگر حج تمتع یا قران کررہا ہے اور وہ   بہت محتاج ہے ، قربانی نہیں  کرسکتاہے تو اس کے بدلے اسے دس روزے رکھنے ہوں گے، جن میں سے تین  روزے حج کے ایام میں یوم النحر  (10 ذوالحجہ) سے پہلے پہلے اور سات روزےحج سے فراغت کے بعد رکھنے  ہوں  گے۔ اگر یوم النحر سے پہلے تین روزے نہیں رکھ سکا تو اسے بہرصورت قربانی کرنی ہوگی، پھر روزہ رکھنے سے واجب ادا نہیں ہوگا۔

فتاوی شامی میں ہے:

"وإن عجز صام ثلاثة أيام ولو متفرقة آخرها يوم عرفة ندبا رجاء القدرة على الأصل،۔۔۔ وسبعة بعد تمام أيام حجه فرضا أو واجبا".

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144312100058
تاریخ02-07-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں