بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عرفات میں جمعہ کی نماز کا حکم

سوال

اس سال سعودیہ عربیہ میں یوم عرفہ جمعہ کے دن ہے، تو کیا حاجی صاحبان نماز جمعہ اداکریں گے یا ظہر ؟خصوصاً جو حاجی صاحبان مسافر نہیں ہیں،  ان کے  لیے کیا حکم ہے؟ 

جواب

حاجی صاحبان مقیم ہوں یا مسافر،وہ میدان عرفات میں  جمعہ کی نماز فرض نہیں پڑھیں گے، بلکہ  وہ ظہر کی نماز ہی  پڑھیں گے؛ کیونکہ جمعہ  کی صحیح ہونے کے لئے شہر ہونا یا مضافات شہر ہونا  شرط  ہے، اور عرفات میں یہ شرط نہیں پائی جا رہی ہے۔

"ولا جمعة بعرفات اتفاقا، كذا في الكافي".

       (الفتاوى الهندية: كتاب الصلاة، الباب السادس عشر في صلاة الجمعة (1/ 145)، ط. رشيديه)

"(قال) ولا جمعة بعرفة يعني إذا كان الناس يوم الجمعة بعرفات لا يصلون الجمعة بها؛ لأن المصر من شرائط الجمعة وعرفات ليست في حكم المصر إذ ليس لها أبنية إنما هي فضاء، وليست من فناء مكة؛ لأنها من الحلّ".

(المبسوط للسرخسي: كتاب المناسك، باب الخروج من منى (4/ 55)، ط. دار المعرفة - بيروت، تاريخ النشر: 1414هـ = 1993م)

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144312100032
تاریخ02-07-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں