نامحرم وکیل کے ذریعے عورت کا نکاح
سوال
میری شادی میں میرا ولی میری امی کا کزن تھا، کیا اسلام میں ولی کے ساتھ چا ہے وہ جو بھی ہو نکاح ہوسکتا ہے؟( جسے دینی بھائی بھی کہتے ہیں)
جواب
صورت مسئولہ میں آپ کا نکاح آپ کی والدہ کے کزن نے کروایا ہے تو شرعا اس کو وکیل کہا جاتا ہے،اور نکاح کا وکیل عورت کسی کو بھی بنا سکتی ہے چاہے وہ محرم ہو یا نامحرم، تاہم بہتر یہ ہے کہ نکاح میں وکیل محرم ہو۔
لہذا اگر آپ کا نکاح آپ کی والدہ کے کزن نے آپ کی اجازت سے کرا دیا تو شرعا یہ نکاح درست ہے۔
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

