اللہ نے اولاد دی تو روزے رکھوں گی، حاملہ ہونے سے ہی روزے لازم ہوں گے یا بچے کی پیدائش کے بعد؟
سوال
ایک عورت نے نذر مانی تھی کہ "اے اللہ اگر تو نے مجھے اولاد دی تومیں تین مہینے روزے رکھوں گی "ابھی وہ حاملہ ہے،اب سوال یہ ہے کہ یہ روزے محض حاملہ ہونے سے ہی لازم ہوں گے یابچے کی ولادت کے بعدلازم ہوں گے؟
جواب
صورتِ مسئولہ میں جب مذکورہ خاتون نے یہ نذر مانی تھی کہ :"اے اللہ!اگر تونے مجھے اولاد دی تو میں تین مہینے روزے رکھوں گی" تو اب جب تک مذکورہ خاتون کے ہاں بچے کی پیدائش نہیں ہوجاتی اُس وقت تک اُس پریہ روزے رکھنے لازم نہیں ہیں،بچے کی پیدائش کے بعد مذکورہ خاتون پر روزے رکھنے لازم ہوں گے ۔
فتاوٰی ہندیہ میں ہے:
"إذا علق النذر بالصوم بشرط، وأداه قبل وجوده لا يجوز إجماعا."
(کتاب الصوم ،الباب السادس فی النذر، 210/1، ط: رشيدية)
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

