بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ملکیشا نام رکھنا

سوال

 ملکیشا نام رکھنا کیسا ہے؟

جواب

لفظ ’’ ملکیشا ‘‘   کے کوئی معنی  تلاش کے باوجود لغت میں نہیں مل سکے؛ اس لیے  "ملکیشا "  نام رکھنے  سے  بہتر ہے کہ انبیاء کرام ،صحابہ کرام یا صحابیات کے ناموں  میں سے کسی نام پر بچوں  کا نام رکھا جائے۔

ایک حدیث شریف میں ہے :

 "عن أبى وهب الجشمى، وكانت له صحبة، قال : قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم : « تسموا بأسماء الأنبياء، وأحب الأسماء إلى الله، عبد الله، وعبد الرحمن، وأصدقها حارث، وهمام، وأقبحها حرب، ومرة ».“

(سنن أبی داٶد،کتاب الادب،باب فی تعبیر الاسماء : ص 433، ج 4، ط: دار الکتب العربي)

ترجمہ: "اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے محبوب نام عبداللہ اور عبدالرحمٰن ہے، اور مصداق کے اعتبار سے سب سے سچا نام حارث اور  ہمام  (ھ کے زبر اور پہلے میم کے زبر اور تشدید کے ساتھ) ہے  اور سب سے زیادہ سچے نام حارث اور ہمام ہیں اور سب سے زیادہ ناپسندیدہ نام حرب اور مرة ہیں۔"

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144311102159
تاریخ30-06-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں