بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قربانی کے جانور میں لڑکے کے عقیقے کے حصے

سوال

 کیا قربانی کے جانور میں لڑکے کا عقیقہ کیا جاسکتا ہے ؟ اگر ہاں تو لڑکے کی طرف سے ایک حصہ کافی ہوگا یا دو حصے لازمی ہوں گے؟

جواب

صورت مسئولہ میں قربانی کے بڑے جانور میں عقیقہ کا الگ حصہ رکھنا جائز ہے۔ لڑکے کے عقیقے کے لیے دو حصے رکھنا مستحب ہے، تاہم ایک حصے سے بھی عقیقہ ہوجاتا ہے۔

کفایت المفتی میں ہے :

"لڑکے کے عقیقہ میں دو بکرے یا دو بھیڑے یا دو بکریاں یا بھیڑیں ذبح کرنا مستحب ہے، اگر دو کی وسعت نہ ہو تو ایک بھی کافی ہے۔"

(کتاب الاضحیة والذبیحة، ج۸، ص۲۴۲، ط :دار الاشاعت)

فتاوی شامی میں ہے :

"وكذا لو أراد بعضهم العقيقة عن ولد قد ولد له من قبل ؛ لأن ذلك جهة التقرب بالشكر على نعمة الولد ذكره محمد."

(كتاب الاضحية، 6/ 326،  ط: سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144311102108
تاریخ29-06-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں