بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

غسل جنابت میں پلستر والے حصہ پر مسح کافی ہے، دھونا ضروری نہیں

سوال

کلائی میں فریکچر کی وجہ سے کہنی تک پلستر ہوا ہو تو اس صورت میں غسل جنابت  کیسے کیا جائے؟ طریقہ بتادیں۔

جواب

صورت مسئولہ میں اگر   جسم  پر زخم  یا چوٹ کی وجہ سے  کسی حصے پر پٹی یا پلستر چڑھا ہوا ہو   اور اس کو وضو یا فرض غسل کی حاجت ہوتو ایسی صورت میں وہ شخص باقی اعضاء پر پانی ڈالے اور متاثرہ حصے /پٹی یا پلستر  کی جگہ پر پانی نہ ڈالے،  بلکہ اس پر مسح کرلے یعنی گیلا ہاتھ پھیر لے  اور یہی مسح اس کے لیے دھونے کے حکم میں ہوگا اور فرض ادا ہوجائےگا۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين میں ہے:

''ویمسح نحو(مفتصد وجریح علی کل عصابة مع فرجتها في الأصح. (قوله: على کل عصابة) أي علی کل فرد من أفرادهاسواء کانت عصابة تحتها جراحة وهي بقدرها أوزائدة علیهاکعصابة المفتصد، أولم یکن تحتهاجراحة أصلاً، بل کسر أوکي، وهذا معنی قول الکنز: کان تحتهاجراحة أولا، لکن إذا کانت زائدة علی قدرالجراحة فإن ضرّه الحل والغسل مسح الکل تبعاً، وإلافلا''.

(کتاب الطہارۃ، باب التیمم، مطلب في لفظ کل إذا دخلت علی منکر أومعرف، ج: 1، صفحہ: 280، ط: ایچ، ایم، سعید) 

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144311102107
تاریخ29-06-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں