بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

دو بیویوں کے ساتھ ایک وقت میں ہم بستری کرنا

سوال

کسی آدمی کی دو بیویاں ہیں اور وہ ایک ہی گھر میں رہ رہے ہیں تو دونوں کے ساتھ ایک ہی ٹائم میں ہم بستری کر سکتا ہے؟

جواب

شرم و حیاء اسلام کا بنیادی اور امتیازی وصف ہے، ایمان و حیاء کو لازم و ملزوم قرار دیا گیا، اگر ایک اٹھ جائے تو دوسرا بھی اٹھ جاتا ہے، لہذا دو بیویوں کے ساتھ ایک وقت میں اکھٹے کرکے ہم بستری کرنا جائز نہیں ہے۔

نیز عورت کے لیے بھی دوسری عورت کا ستر  شدید ضرورت کے بغیر دیکھنا جائز نہیں ہے،  لہٰذا اگر ایک بیوی دوسری بیوی کا ستر دیکھے تو اس کی قباحت مزید بڑھ جائے گی۔

فتاوی شامی میں ہے:

"ويكره للرجل أن يطأ امرأته وعندها صبي يعقل أو أعمى أو ضرتها أو أمتها أو أمته. اهـ".

(باب القسم بين الزوجات، کتاب النکاح، جلد 3 ص:208، ط: سعید)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144311102029
تاریخ28-06-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں