بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

گابھن جانور کی قربانی

سوال

اگر کسی غریب یا صاحب نصاب نے قربانی کا جانورگھر میں پالا عید سے 15 دن پہلے  اُس کو معلوم ہوا کہ گائے کے پیٹ میں 15 دن کا بچہ ہے تو کیا حکم ہے؟

جواب

اگر جانور  قربانی کی نیت سے پالاگیا ہے  اور جانور کا مالک صاحب نصاب ہے تو وہ اس گابھن جانور کے بجائے دوسرا جانور خرید کر قربانی کرسکتا ہے اور گابھن جانور خود بھی پالنے کے لیے رکھ سکتا ہے اور فروخت کرنا چاہے تو فروخت بھی کرسکتا ہے۔

اور  اگر جانور کا مالک خود صاحب نصاب نہیں ہے اور اس نے یہ جانور قربانی کے لیے متعین کیا تھا تو اس پر اسی جانور کی قربانی لازم ہے ۔

واضح رہے کہ جس جانور کے پیٹ میں بچہ ہو  اس کا ذبح کرنا جائز ہے البتہ جان بوجھ کر ولادت کے قریب جانور کوذبح کرنا مکروہ ہے، ذبح کے بعد جو بچہ نکلےاس کو بھی ذبح کیا جائیگا،اس کا کھانا حلال ہے، اور اگر مردہ نکلے تو اس کا کھانا درست نہیں، اور اگر ذبح کرنے سے پہلے ہی مرگیا تو اس کا گوشت کھانا حرام ہے۔

الدر المختار وحاشیہ ابن عابدین میں ہے:

"ولدت الأضحية ولدا قبل الذبح يذبح الولد معها (قوله قبل الذبح) فإن خرج من بطنها حيا فالعامة أنه يفعل به ما يفعل بالأم."

(کتاب الاضحیۃ،ج6،ص322،ط؛سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144311101984
تاریخ27-06-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں