بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کسی کی طرف سے اس کی اجازت سے قربانی میں حصہ لینا

سوال

ہم گھر میں 3 فرد ایسے ہیں کہ ہماری آمدنی اکٹھی ہے، سب کے پیسے میرے پاس جمع ہوتے ہیں، اب میں تو صاحبِ نصاب ہوں مجھ پر تو قربانی واجب ہے، میرے ساتھ والے بھی صاحبِ نصاب ہیں، ان پر بھی قربانی واجب ہے، پوچھنا یہ تھا کہ اگر ان کی اجازت سے میں ان کے حصے بھی کسی جگہ قربانی میں لے لوں تو کیا اس طرح کرنا ٹھیک ہے؟ اور ان کی طرف سے قربانی ادا ہو جائے گی؟ہم 3 افراد یہ ہیں: دو بھائی ہیں اور ایک والد صاحب ہیں۔

جواب

واضح رہے کہ کسی شخص کی طرف سے قربانی کے جائز ہونے کے لیے ضروری ہے کہ اس شخص کی اجازت سے قربانی کی جائے، لہٰذا صورتِ مسئولہ میں سائل کا اپنے والد اور اپنے بھائی کی طرف سے ان کی اجازت سے قربانی کرنا یا قربانی کے جانور میں حصہ لینا درست ہے، ان کی قربانی ادا ہوجائے گی۔

بدائع الصنائع ميں ہے:

"(ومنها) أنه تجزئ فيها النيابة فيجوز للإنسان أن يضحي بنفسه وبغيره بإذنه؛ لأنها قربة تتعلق بالمال فتجزئ فيها النيابة كأداء الزكاة وصدقة الفطر؛ ولأن كل أحد لا يقدر على مباشرة الذبح بنفسه خصوصا النساء، فلو لم تجز الاستنابة لأدى إلى الحرج."

(كتاب التضحية، ‌‌فصل في أنواع كيفية الوجوب، ج:2، ص:67، ط:دار الكتب العلمية)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144311101957
تاریخ27-06-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں