بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

طلاق کی ادائیگی میں شک ہو تو کیا حکم ہے؟

سوال

ایک شخص شک میں مبتلا ہے کہ طلاق کے الفاظ بولےہیں کہ نہیں ،ذہن پر زور ڈالنے سے کبھی نہ بولنے کا پہلو راجح ہوتا ہےاور کبھی بولنے کا، غالب گمان ایک طرف بھی نہیں  اور جب میں اپنے آپ کو قسم دیتا ہوں  تو میں قسم نہیں اٹھا سکتا کہ میں نے ایسا کہا ہو ،اس شخص کے بارے میں کیا حکم ہے ؟

جواب

سائل طلاق کے وسوسے میں مبتلا ہے، اور بارہا سائل کوجواب دیا جاچکا ہے کہ محض وسوسے سے طلاق واقع نہیں ہوتی، سائل کے کئی سوالات کے جوابات دیئے جاچکے ہیں جو ویب سائٹ پر پبلش ہوچکے ہیں، اس لیے سائل کو چاہیے کہ بار بار ایک ہی نوعیت کا مسئلہ دریافت کرنے اور ایک ہی سوال کئی بار ویب سائٹ پر بھیجنے کے بجائے کسی قریبی معتبر دارالافتاء میں بنفس نفیس حاضر ہوکر طلاق کے الفاظ استعمال کرتے وقت طاری ہونے والی اپنے نفسیاتی مرض کی کیفیت  ان کے سامنے واضح کردے ، اور وہ جو رائے دیں اس کے مطابق عمل کرے، لیکن اس کے باوجود سائل کا اسی سوال کو لے کر بار بار فتوی طلب کرنا دارالافتاء کے نظم و نسق کے خلاف ہے ، جب کہ اس کے علاوہ بھی سائل اپنے مذکورہ مسئلہ کا جواب لے چکا ہے ، سائل کو چاہئے کہ وہ اس سے اجتناب کرے ۔

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144311101941
تاریخ27-06-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں