بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

آئی برو کے درمیان کے بال صاف کرنا

سوال

عورت کے لیے آئی برو کے درمیان کے بال صاف کرنا جائز ہے؟

جواب

 عورت کے لیےزیب و  زینت حاصل کرنے یا فیشن  کی غرض سے آئی برو (بھنووں) کے اطراف سے یا  دونوں  بھنووں  کے درمیان کے بال اکھاڑنایا  کتروانا یا ان کو باریک کروانا  جائز نہیں ہے،  البتہ اگر بھنویں اس قدر زیادہ پھیلی ہوئی ہیں کہ  اس میں  مردوں سے مشابہت ہورہی ہو یا وہ بہت  بد نما معلوم ہورہی ہوں  تو ان کو درست کرکے عام حالت کے مطابق   (ازالۂ عیب کے لیے)معتدل کرنے کی گنجائش ہے۔

حاشية رد المختار على الدر المختار میں ہے:

"( والنامصة إلخ ) ذكره في الإختيار أيضاً، وفي المغرب: النمص نتف الشعر ومنه المنماص المنقاش اهـ ولعله محمول على ما إذا فعلته لتتزين للأجانب، وإلا فلو كان في وجهها شعر ينفر زوجها عنها بسببه ففي تحريم إزالته بُعد؛ لأن الزينة للنساء مطلوبة للتحسين، إلا أن يحمل على ما لا ضرورة إليه؛ لما في نتفه بالمنماص من الإيذاء.  وفي تبيين المحارم: إزالة الشعر من الوجه حرام إلا إذا نبت للمرأة لحية أو شوارب فلا تحرم إزالته بل تستحب."

(6/ 373، كتاب الحظر والاباحة، فصل في النظر والمس، ط: سعيد)

فقط والله أعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144311101884
تاریخ27-06-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں