بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جمعہ کی دوسری اذان دینے کی جگہ

سوال

نمازِ  جمعہ کی اذانِ ثانی کے  لیے مؤذن کو کہاں‌ کھڑے ہونا  چاہیے؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں  جب امام  جمعہ کے خطبے کے  لیے ممبر پر بیٹھ جائے تو مؤذن   امام کے سامنے کھڑے ہوکر دوسری اذان  دے گا،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے اس اذان کا  یہی طریقہ چلا آرہا ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"قال في شرح المنية: واختلفوا في المراد بالأذان الأول، فقيل: الأول باعتبار المشروعية، وهو الذي بين يدي المنبر؛ لأنه الذي كان أولاً في زمنه عليه الصلاة والسلام، وزمن أبي بكر وعمر، حتى أحدث عثمان الأذان الثاني على الزوراء حين كثر الناس. والأصح: أنه الأول باعتبار الوقت، وهو الذي يكون على المنارة بعد الزوال. اهـ. والزوراء بالمد اسم موضع في المدينة".

(الدر المختار مع رد االمحتار، کتاب الصلاۃ،باب الجمعة،(2/ 161)،ط: سعید کراچی)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144311101872
تاریخ26-06-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں