بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قربانی کے لیے خریدا گیا جانور تبدیل کرنا

سوال

 شوہر قربانی کے لیے دو بکرے لیکر آیا اور کہا کہ ایک میرے طرف سے اور ایک میری بیوی کی طرف سے ہے پھر بیوی نے اپنے لیے ان میں سے ایک کو متعین کیا اور پھر دوسرے دن شوہر نے کہا کہ یہ بکرا کمزور ہے اس کو بیچ کر میں آپ کا بھینس میں حصہ رکھ دیتا ہوں تو کیا اب بکرے کی جگہ وہ حصہ کافی ہوجائے گا۔

جواب

قربانی کے لیے خریدا گیا جانور فروخت کرنا مناسب نہیں ہے،تاہم اگر فروخت کرکےبڑے جانور  میں  حصہ لینا چاہتے ہیں اور وہ حصہ بکرے کی فروخت شدہ قیمت سے کم ہے تو باقی رقم کو صدقہ کرنا چاہئے۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"ولو باع الأضحية جاز خلافا لأبي يوسف رحمه الله تعالى، ويشتري بقيمتها أخرى ويتصدق بفضل ما بين القيمتين."

(کتاب الاضحیۃ،الباب السادس في بيان ما يستحب في الأضحية والانتفاع بها،ج5،ص302،ط؛دار الفکر)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144311101867
تاریخ26-06-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں