بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

محض پتھر پھینکنے سے طلاق کا حکم

سوال

 میں اپنی کمپنی کے ایک ساتھی کے ساتھ ایک روڈ کی بات کر رہا تھا، جو کہ پہاڑی نالے کے سیلاب سے متاثر ہو گیا تھا ،  اس ساتھی نے کہا کہ روڈ کو کچھ نہیں کرنا صرف پتھر پھینکنے ہیں ، جوابا میں نے کہا "اچھا" جب کہ میری نیت یہ تھی کہ خشک پتھر راستے پر ڈالنے ہیں ، کیا ایسے واقعہ سے نکاح پر تو کوئی اثر نہیں پڑا؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں الفاظِ طلاق ادا کیے بغیر محض کسی روڈ پر پتھر پھینکنے کے الفاظ ادا کرنے سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی۔  اور  نہ ہی محض اس طرح کے وسوسے  نکاح پر کسی طرح سے اثر انداز  ہوتے ہیں۔

فتاوی شامی میں ہے:

"وعن الليث لايجوز طلاق الموسوس قال: يعني المغلوب في عقله، وعن الحاكم هو المصاب في عقله إذا تكلم يتكلم بغير نظام كذا في المغرب".

(كتاب المرتد، ج:4، ص:224، ط:ايج ايم سعيد)

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144311101836
تاریخ26-06-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں