بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قربانی کا نصاب

سوال

زید کے پاس ایک کروڑ مالیت  کا ٹرالر ہے جو اپنی معاش پوری کرنے کے لیے حال ہی میں خریدا  ہے،  اس گاڑی کے علاوہ اتنی رقم،  سامان وغیرہ نہیں ہے کہ جو نصاب تک پہنچ جائے تو کیا اس پر قربانی واجب ہوگی ؟کسی عالم صاحب نے قربانی کے وجوب کا کہا ہے کہ آپ ایک کروڑ  مالیت  کے ٹرالر  کے مالک ہیں۔  مدلل جواب دے کر  ممنون فرمائیں!

جواب

صورتِ مسئولہ  میں  ٹرالر جو   نقل و حمل  اور   کمائی  کے لیے استعمال ہوتا ہے اگر اس کی آمدنی سے گھر کا  گزر بسر ہوتا ہو اور بچت نہیں ہوتی ،  بلکہ ساری آمدنی ضرورت میں خرچ ہوجاتی ہے تو اس صورت میں ، خواہ جتنی بھی مالیت کا ہو  وہ روزگار کا آلہ ہونے کی وجہ سے اس  مال کو قربانی کے نصاب میں شامل نہیں کیا جائے گا،البتہ  اگر اس  کی آمدنی  سے گھر کے  گزر بسر کے بعد بچت بھی ہوتی ہو یا بچت تو نہیں ہوتی، لیکن اس کے علاوہ  اس کے پاس  اتنی رقم ہو یا اس قدر بنیادی  ضرورت سے زائد سامان ہو جو  نصاب ( ساڑھے باون تولہ  چاندی کی قیمت کے برابر)کے بقدر ایام اضحیہ میں موجود  ہو تو اس پر قربانی  واجب ہوگی۔اور اگر رقم یا سامان ہو،  لیکن اس کی  مجموعی مالیت چاندی کے  نصاب سے کم ہو تو قربانی واجب نہیں ہوگی۔

 فتاوی شامی میں ہے:

"و كذلك آلات المحترفين) أي سواء كانت مما لا تستهلك عينه في الانتفاع كالقدوم والمبرد أو تستهلك."

(كتاب الزكاة ،ج:2،ص:265، ط:سعيد)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144311101835
تاریخ26-06-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں