بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

پیشاب کے بعد پیشاب کی نالی سے قطروں کا نکلنا

سوال

 پیشاب اور استبراء کرنے کے بعد کوئی قطرہ نہیں آتا ہے، لیکن پانی سے استنجاء کرنے کے وقت پانی کے  ایک دو قطرے پیشاب کی نالی میں چلے جاتے ہیں، پھر جب چلنے لگوں تو باہر آجاتےہیں، اس کا کیا حکم ہوگا؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر سائل کو مکمل طور پر استبراء کرلینے کے بعد یہ یقین ہو کہ پانی ہی نکل رہا ہے تو اس سے اس کے وضو میں فرق نہیں آئے گا، دوبارہ استنجاء اور وضو کرنا ضروری نہیں۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"فإن الشك والاحتمال لا يوجب الحكم بالنقض، إذ ‌اليقين لا يزول بالشك نعم إذا علم بإخبار الأطباء أو بعلامات تغلب ظن المبتلى، يجب. اهـ"

(كتاب الطهارة، ج: 1، ص: 148، ط: دار الفكر بيروت)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144311101779
تاریخ25-06-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں