بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بیوی سے پیچھے کے راستے سے ہم بستری کرنے کاحکم

سوال

بیوی کی پچھلے سوراخ کے ذریعے ہم بستری کرنا کیسا؟

جواب

صورت مسئولہ میں بیوی کے ساتھ غیر فطری طریقے ( یعنی پیچھے کے راستے ) سے ہم بستری کرنا لواطت میں داخل ہے اور  شرعاً یہ فعل  ناجائز اور حرام ہے،  حدیث شریف میں رسول اللہ ﷺ نے  بیوی کے ساتھ پیچھے کے راستے سے ہم بستری کرنے سے منع فرمایا ہے، اور ایسا فعل کرنے والے پر حدیث میں لعنت وارد ہوئی ہے،اور یہ فعل شرعاً و عرفاً انتہائی قبیح اور شرم ناک  ہے اور ایسی  حرکت کرنے والا  سخت گناہ گار ہے، اس پر لازم ہے کہ اپنے اس فعل سے فوراً  توبہ کرے اور آئندہ اس فعل سے باز رہے۔

سنن أبي داود میں ہے :

" عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ملعون من أتى امرأته في دبرها»".

(باب فی جامع النکاح،2/ 249،المكتبة العصرية)

ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ملعون ہے وہ شخص جو اپنی بیوی سے پیچھے کے راستے سے ہم بستری کرے۔

سنن الترمذی میں ہے :

"عن ابن عباس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لاينظر الله إلى رجل أتى رجلاً أو امرأةً في الدبر»".

ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اس شخص کی طرف رحمت کی نظر سے نہیں دیکھتے ہیں جو کسی مرد یا عورت کے ساتھ پیچھے کے راستے سے بد فعلی کرے۔

 (باب ماجاء فی  کراھیة اتیان النساء فی أدبارھن 3/ 461،شركة مكتبة ومطبعة مصطفى البابي الحلبي،)

فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144311101590
تاریخ21-06-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں