بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 جُمادى الأولى 1448ھ 16 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ایزی پیسہ کے ذریعے رقم بھجوانے پر کسٹمر سے مزیدرقم لینے کا حکم

سوال

ایک دکاندار نے ایزی پیسہ سے دوسرے آدمی کے( 10000)  روپے اس کے گاؤں بھیجے،  اور سروِس چارجز  کے طور پر  الگ سو روپے بھی لیے، تو کیا یہ سو روپے سود میں آئیں گے یا نہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ  میں ایزی پیسہ کمپنی کی طرف سے دوکاندار کوکسٹمر سے مزید چارجز لینے پر پابندی ہوتی ہے اور باقاعدہ کسٹمر کے پاس مزید چارجز نہ دینے کا میسج بھی آتاہے، لہذا اس صورت میں کمپنی کے قوانین کا لحاظ کرتے ہوئے کسٹمر سے اضافی رقم لینا جائز نہیں ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"قال في التتارخانية: وفي الدلال والسمسار يجب أجر المثل، وما تواضعوا عليه أن في كل عشرة دنانير كذا، فذاك حرام عليهم".

(مطلب في أجرة الدلال، ج:6، ص:63، ط:ايج سعيد)

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144311101545
تاریخ21-06-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں