بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سوتے وقت سر پر ہاتھ رکھنا

سوال

کیا سوتے وقت سر پر ہاتھ رکھنے سے ٹینشن بڑھتا ہے ایسا کرنا شرعاً کیسا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ سونے کے لیے لیٹنے کا سنت طریقہ یہ ہے کہ دائیں کروٹ پر دایاں ہاتھ رخسار کے نیچے رکھ کر قبلہ کی طرف منہ کر کے سوئے۔ اگر مکمل وقت اسی کیفیت سے سونا مشکل ہو توکم از کم سونے کے لیے لیٹتے وقت اس ہیئت پر لیٹ جائے۔

صورت ِ مسئولہ میں سوتے وقت سر پر ہاتھ رکھنے سے ٹینشن کا بڑھنا شرعاً اس کی کوئی اصل نہیں ،البتہ یہ طبی مسئلہ ہوسکتاہے کہ کسی کو اس طرح کرنے سے ٹینشن بڑھ جائے ،لیکن اس کو یہ سمجھنا کہ اس طرح لیٹنے سے ٹینشن بڑھ جاتی ہے شرعاً  ثابت نہیں ۔

حدیث شریف میں ہے :

"حدثنا مسدد، حدثنا عبد الواحد بن زياد، حدثنا العلاء بن المسيب، قال: حدثني أبي، عن البراء بن عازب، قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا أوى إلى فراشه نام على شقه الأيمن".

(صحیح بخاری ،کتاب الدعوات،باب النوم علی شقہ الایمن،ج:۵،ص:۲۳۲۷،دارابن کثیر )

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144311101521
تاریخ21-06-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں