بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بیٹے کے لیے عمار نام رکھنا کیسا ہے؟

سوال

بیٹے کے لیے" عمار"  نام رکھنا کیسا ہے؟

جواب

"عمّار" ایک جلیل القدر صحابی رضی اللہ عنہ کا نام ہے، اس نسبت سے یہ نام بابرکت ہے،  نیز صحابہ کے ناموں پر نام رکھنے کے لیے محض صحابی کا نام ہونا کافی ہے، اور  یہ  نسبت ہی باعثِ برکت ہے، ان ناموں میں مطلب اور معنیٰ کی طرف نظر کرنے کی ضرورت نہیں۔

كما في الإصابة:

"عمار بن ياسر بن عامر بن مالك بن كنانة بن قيس بن الحصين بن الوذيم بن ثعلبة بن عوف [بن حارثة بن عامر بن بأم بن عنس، بنون ساكنة، ابن مالك العنسي، أبو اليقظان، حليف بني مخزوم، وأمه سمية مولاة لهم، كان من السابقين الأولين، هو وأبوه، وكانوا ممن يعذب في الله".

(الإصابة في تمييز الصحابة، حرف العين بعدها الميم، 4/ 473، ط: دار الكتب)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144311101482
تاریخ21-06-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں