بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

گوگل پے اور فون پے کے ذریعے رقم ٹرانسفر کرنے کی صورت میں مزید رقم لینے کا حکم

سوال

گوگل پے اور فون پے کے ذریعہ پیسے ٹرانسفر کرنے پر مزید زائد رقم لینا (ایک ہزار پر دس روپے لینا مثلا)کیا یہاں زائد پیسے لینا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ  گوگل پے ایپ (Google Pay App)  اورفون پے  ایپ (Phone Pay App) آن لائن پیسوں کی ادائیگی کی ایپ ہیں، اور یہ لوگوں کو پیسوں کی ادا ئیگی میں سہولت فراہم کرتی ہیں۔ ادائیگی کا طریقہ کار یہ ہوتا ہے کہ ایپ استعمال کرنے والا شخص اپنے ڈیبٹ کارڈ یا کریڈٹ کارڈ  یا بینک اکاؤنٹ نمبر گوگل پے کی ایپ  کو فراہم کرتا ہے اور گوگل پے ایپ اس شخص کے اکاؤنٹ یا کارڈ کو استعمال کر کے ادائیگی کرتی ہے۔ گوگل پے ایپ کریڈٹ کارڈ سے ادائیگی پر دو اعشاریہ نو فیصد چارجز لگائے جاتے ہیں اور ڈیبٹ کارڈ  اور بینک اکاؤنٹ سے ادائیگی میں کوئی چارجز نہیں لگائے جاتے۔ 

صورتِ  مسئولہ میں گوگل پے  اور فون پے ایپ کے ذریعے رقم ٹرانسفر کرنے کی صورت میں   جو مزید رقم لی جاتی ہے اگر ٹرانسفر کرنے والا  اس کام کے   لیے محنت اور وقت صرف کرے اور وہ اجیر بن کر اپنے عمل کی طے شدہ اجرت وصول کرے   تو اس کے  لیے مزید رقم لینا شرعًا جائز ہے۔

ملحوظ رہے کہ کریڈٹ کارڈ بنانے میں ناجائز معاہدہ کرنا پڑتا ہے، اس لیے کریڈٹ بنانا  اور اس کا استعمال جائز نہیں ہے۔

در مختار میں ہے :

" وشرعاً (تمليك نفع) مقصود من العين (بعوض)."

(فتاوی شامی ،کتاب الاجارۃ،ج:۶،ص:۴،سعید)

فتاوی ہندیہ میں ہے :

"(أما تفسيرها شرعا) فهي عقد على المنافع بعوض، كذا في الهداية."

(کتاب الاجارۃ،ج:۴،ص:۴۰۹،دارالفکر)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144311101335
تاریخ18-06-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں