بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ابان نام رکھنا کیسا ہے؟

سوال

ابان نام رکھنا  کیسا ہے؟

جواب

"ابان"   کے معنی  صاف اور  واضح چیز  کے ہیں ،   ابان نام کےکئی صحابہ  کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین بھی تھے، لہذا یہ نام رکھنا درست  ہے۔

الإصابة في تمييز الصحابة میں ہے:

"أبان بن سعيد بن العاص بن أمية بن عبد مناف القرشي الأموي. قال البخاريّ، وأبو حاتم الرّازيّ، وابن حبّان: له صحبة، وكان أبوه من أكابر قريش، وله أولاد نجباء، أسلم منهم قديماً خالد، وعمرو".

(باب الألف بعدها موحدة،ج: 1، صفحہ: 168، ط:  دارالكتب العلمية - بيروت)

وفیہ ایضاً: 

"مات سنة ثمانين عام الجحاف، وهو سيل كان ببطن مكة جحف الحاجّ، وذهب بالإبل، وعليها الحمولة، وصلى عليه أبان بن عثمان وهو أمير المدينة حينئذٍ لعبد الملك بن مروان، هذا هو المشهور".

(ج:4، صفہ: 37، ط: دارالكتب العلمية - بيروت)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144311101319
تاریخ17-06-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں