بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

وقف قربانی کو وقف قربانی کہنے کا حکم

سوال

کیا وقف قربانی کہنا یا لکھنا جائز ہے؟ کہتے ہیں کہ خیراتی قربانی لکھنا چاہیے آیا کہ اس میں کوئی شرعی قباحت یا عمل میں نقص لازم آئےگا ؟

جواب

وقف سے مراد وہی خیراتی قربانی ہوتا ہے اورمقصد یہ ہوتا ہے کہ یہ فقراء کا حق ہے،صرف نام کا فرق ہے ورنہ حقیقت دونوں کی ایک ہے۔

الاسعاف فی احکام الاوقاف میں ہے:

"‌‌[فصل فى ‌وقف ‌المنقول إصالة]

اختلف أبو يوسف ومحمد رحمهما الله فى ‌وقف ‌المنقول مستقلا فعن أبى يوسف فى النوادر لا يجوز الوقف فى الحيوان والرقيق والمتاع والثياب ما خلا الكراع والسلاح إلا بطريق كما تقدم والصحيح ما روى عن محمد رحمه الله من أنه يجوز ‌وقف ما جرى فيه التعارف كالمصاحف والكتب والفاس والقدوم والمنشار والقدر والجنازة لوجود التعارف فى ‌وقف هذه الأشياء وبه يترك القياس كما فى الاستصناع بخلاف ما لا تعارف فيه كالثياب والأمتعة."

(کتاب الوقف، فصل فی وقف المنقول أصالة، ط:المطبعة الهندیة)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144311101281
تاریخ17-06-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں