بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

29 ربیع الثانی 1448ھ 12 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کسی کا مال اس کی اجازت کے بغیر استعمال کرنا

سوال

ایک لڑکی کا سوال یہ ہے کہ اس کا سسر بہت امیر مگر کنجوس بھی ہے تو کیا اس کے پیسے بغیر اس کی اطلاع کے لے کر علاقے میں ایک بہت غریب لڑکی کی شادی ہے اس میں استعمال کیا جا سکتا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ  شریعت نے ہر ایک کو اپنے مال میں تصرف کرنے کی اجازت دی ہے،کسی   دوسرے کے مال میں اس کی اجازت کے بغیر تصرف کرنا شرعا جائز نہیں ہے،لہذاصورتِ مسئولہ میں لڑکی کے لیے اپنے سسر کے مال میں اس کی اجازت کے بغیر تصرف(خیرات وغیرہ) کرناشرعا ناجائز ہے۔

مجلۃ الاحکام العدلیۃ میں ہے:

"(المادة 96) : لا يجوز لأحد أن يتصرف في ملك الغير بلا إذنه."

(‌‌المقالة الثانية في بيان القواعد الكلية الفقهية،ص27،ط؛دار الجیل)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144311101257
تاریخ17-06-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں