بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نامحرم سے ادھار لینے کا حکم

سوال

اگر کوئی بندہ کسی عورت سے ادھار لیتا ہے اور بعد میں واپسی کے وقت وہ عورت اسے معاف کر دیتی ہے تو کیا اسے ادھار دینا چاہیے یا نہیں ؟ اسلام میں غیر محرم سے ادھار لینا جائز ہے کہ نہیں ؟

جواب

واضح رہے کہ اسلام میں نامحرم سے جس طرح دیگر معاملات مثلا بیع ، شراء وغیرہ جائز ہے اسی طرح ادھار لینا بھی جائز ہے   ۔اگر عورت قرضہ دینے کے بعد معاف کردے تو کرسکتی ہے ،یہ اس کاحق ہے  ،تاہم اسے کسی فتنہ  میں مبتلاء ہونے کا ذریعہ نہ بنایا جائے ۔

الفقه الاسلامي و ادلته ميں هے:

"والأحوال التي يجوز النظر فيها للمرأة لحاجة استثنائية هي عند الفقهاء:‌‌ الخطبة، و‌‌المعالجة، و‌‌المعاملة كبيع وشراء، والشهادة أو القضاء، والتعليم، ونحو ذلك والنظر بقدر الحاجة، فلا يجوز أن يجاوز ما يحتاج إليه؛ لأن ما حل لضرورة يقدر بقدرها .......وفي المعاملة من بيع وشراء يباح النظر للوجه فقط، للمطالبة بالثمن أو تسليم المبيع مثلا."

(الباب السابع ۔ الحظر و الاباحۃ ، المبحث الرابع ۔ الوطء و النظر و اللمس و اللہو و التصویر و الوسم و الوشم و احکام الشعر و النتف و التفلیج و السلام جلد ۴ ص : ۲۶۵۳ ، ۲۶۵۴ ط : دار الفکر ۔ سوریۃ ۔ دمشق)

فقط و اللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144311101248
تاریخ17-06-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں