بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

آن لائن قران پڑھانے پر اجرت لینے کا حکم

سوال

کيا ايک خامسہ پڑھنے  والا بچہ  پیسہ لےکر آن لائن قرآن پڑھا  سکتا ہے؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں  اجرت لے کر  آن لائن قران پڑھانا جائز ہے اور اس کی اجرت حلال ہوگی البتہ یہ بات ذہن نشین رہے کہ اس تعلیم و تعلم میں شریعت کے دیگر شرائط و  احکامات کا خیال رکھا جائے مثلاً  کسی نامحرم کو آن لائن قرآن نہ پڑھائے کیونکہ اس طرح کسی نا محرم سے آن لائن رابطہ کرنا گو کہ قرآن پڑھانے کے لیے کیوں نہ ہو فتنہ میں مبتلاء ہونے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ اسی طرح جان دار کی تصویر اور ویڈیو کا استعمال نہ ہو؛ کیوں کہ تصویر اور  ویڈیو حرام ہیں۔

فتاوی ہندیہ:

"ومشايخ بلخ جوزوا الاستئجار على تعليم القرآن إذا ضرب لذلك مدة وأفتوا بوجوب المسمى وعند عدم الاستئجار أصلا أو عند الاستئجار بدون المدة أفتوا بوجوب أجر المثل. كذا في المحيط."

(کتاب الاجارۃ، باب خامس عشر ج نمبر ۴ ص نمبر ۴۴۸،دار الفکر)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144311101232
تاریخ16-06-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں