بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

29 ربیع الثانی 1448ھ 12 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نابالغ بچوں کےلیے ایصالِ ثواب کرنا

سوال

میری 2 دن کی بھانجی کی وفات ہوگئی ہے، کیا اس کے لیے قرآن پاک پڑھتے ہیں میت کے پاس؟ اور تین دنوں تک جو تسبیحات کرتے ہیں، وہ کرنی ہیں؟

جواب

واضح  رہے کہ مرحوم نابالغ بچے گناہوں سے پاک ہوتے ہیں لہذا  ان کے لیے استغفار تو نہیں کیا جاتا،البتہ  ان کے رفعِ درجات کے لیے ایصالِ ثواب کیا جاتا ہے۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں  میت کے پاس قرآن پڑھنے کو  یا  کسی خاص تسبیح پڑھنے کو  یا تدفین کے بعد والے دنوں میں قبر پر جاکر قرآن پڑھنے کو مسنون سمجھنا درست نہیں، البتہ ایصالِ ثواب کی نیت سے کسی خاص تسبیح یا عبادت کی شکل کو مسنون سمجھے بغیر ویسے ہی ایصالِ ثواب کرنا درست ہے۔

فتاوی شامی میں ہے :

"المراد الاستيعاب، فالمعنى اغفر للمسلمين كلهم، فلاينافي قوله: وصغيرنا، قوله: الآتي، ولايستغفر لصبي: أي لايقول: اغفر له، أفاده القهستاني".

(كتاب الصلاة، باب صلاة الجنازة، ج2، ص213، ط : سعيد)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144311101226
تاریخ16-06-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں