بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مدرسہ کے استاد کو ایڈوانس تنخواہ دینے کا حکم

سوال

مدرسہ کے استاد یا ملازم کو ایڈوانس تنخواہ دینا جائز ہے یا نہیں ؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں مدرسہ کی رقم موقوفہ رقم ہے، جس کو مدرسہ کے مصالح وضروریات میں صرف کرنا منتظمینِ مدرسہ کو اختیار ہے، لہذا اگر وسائل موجود ہیں تو منتظمینِ مدرسہ کے لیے اپنی صوابدید پر استاد  یا ملازم کو   بطورِ  پیشگی تنخواہ رقم دینے  کی اجازت نہیں ہوگی، البتہ قرض دینے کی اجازت ہوگی بشرطیکہ وصولی کا انتظام ہو یا ماہانہ تنخواہ میں سے خاص مقدار کٹوتی کرنے کا معاہدہ ہو۔

البحر الرائق شرح كنز الدقائق میں ہے:

"قال في جامع الفصولين ليس للمتولي إيداع مال الوقف والمسجد إلا ممن في عياله ولا إقراضه فلو أقرضه ضمن وكذا المستقرض وذكر أن القيم لو أقرض مال المسجد ليأخذه عند الحاجة وهو أحرز من إمساكه فلا بأس به وفي العدة يسع المتولي إقراض ما فضل من غلة الوقف لو أحرز. اهـ".

(کتاب الوقف، تصرفات الناظر في الوقف، ج:5، ص:259، ط:دارالکتاب الاسلامی)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144311101192
تاریخ16-06-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں