بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بینک میں پرافٹ کے طور پر پیسے جمع کرنا

سوال

موجودہ حالات میں پیسہ کی قدر دن بدن گرتی جا رہی ہے، اگر کچھ پیسے  کہیں پرافٹ کے لیے رکھے، مثلا اگر  ایک لاکھ روپے کسی بینک میں رکھتا ہو تو مجھے 600 روپے پرافٹ مل رہا ہے تو کیا  موجودہ حالت میں جائز ہو سکتا ہے؟

جواب

 موجودہ حالات میں  بھی بینک میں پیسے  رکھنا اور نفع وصول کرنا   سود ہونے  کی وجہ سےشرعًا جائز نہیں۔

سننِ ترمذی میں ہے:

"حدثنا ‌قتيبة، قال: حدثنا ‌أبو عوانة ، عن ‌سماك بن حرب، عن ‌عبد الرحمن بن عبد الله بن مسعود ، عن ‌ابن مسعود قال: «لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم آكل ‌الربا وموكله وشاهديه وكاتبه»."

(باب ما جاء في أكل الربا، ج:2، ص:496، ط: دار الغرب الإسلامي - بيروت)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144311101149
تاریخ16-06-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں