بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قرض کے لین دین کو لکھ لینے کا حکم

سوال

قرض حسنہ کی کتابت ضروری ہے؟ آیا بغیر کتابت کے کسی کو قرض حسنہ دینا حرام ہے ؟ 

جواب

قرض کے لین دین کے  معاملات(قرض کی رقم،قرض کی واپسی کا وقت وغیرہ) کو تحریر شکل میں محفوظ کرلینا قرض لینے اور دینے والے دونوں کے لیے بہتر اور مستحب ہے،تاکہ بعد  میں مقروض اور قرض دینے والےکے درمیان  کسی قسم کا اشتباہ اور اس کے نتیجہ میں نزاع نہ ہو،لیکن اگر قرض کے لین دین کے معاملات کی کتابت نہ کی  جائے تب بھی قرض دینا جائز ہے،حرام نہیں۔

تفسیر روح المعانی میں ہے:

"ويجوز أن يكون صفة للدين أي مؤخر أو مؤجل إلى أجل مُسَمًّى بالأيام أو الأشهر، أو نظائرهما مما يفيد العلم ويرفع الجهالة لا بنحو الحصاد لئلا يعود على موضوعه بالنقض فَاكْتُبُوهُ أي الدين بأجله لأنه أرفق وأوثق والجمهور على استحبابه لقوله سبحانه: فَإِنْ أَمِنَ بَعْضُكُمْ بَعْضاً [البقرة: 283]."

(سورۃ البقرۃ،ج2،ص54،ط؛دار الکتب العلمیۃ)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144311101079
تاریخ14-06-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں