سائل کی تنخواہ میں بہن بھائیوں کا حق ہوگا یا نہیں؟
سوال
باپ نے مجھے نوکری پر لگایا ،اب کیا میری تنخواہ میں بہن بھائیوں کا حصہ ہے؟
جواب
صورتِ مسئولہ میں سائل کی نوکری کی تنخواہ کا مالک سائل خود ہے، سائل کے بہن بھائی اس تنخواہ کی رقم کے مالک نہیں ہیں، اگرچہ سائلہ کی نوکری والد نے لگواکر دی ہے ، البتہ سائل اپنی صواب دید پر بھائی بہنوں پر خرچ کرنا چاہے تو خرچ کرسکتا ہےا ور بہن بھائیوں پر خرچ کرنا باعث ثواب ہوگا۔
بدائع الصنائع میں ہے:
"أما الأول: فهو ثبوت الملك في المنفعة للمستأجر، وثبوت الملك في الأجرة المسماة للآجر؛ لأنها عقد معاوضة إذ هي بيع المنفعة، والبيع عقد معاوضة، فيقتضي ثبوت الملك في العوضين."
(کتاب الإجارۃ، فصل في حکم الإجارۃ ، 4/ 201،ط:دار الکتب العلمیۃ)
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

