بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

دیگ کی نذر ماننے کا حکم

سوال

منت ماننے کے لیے قربت مقصودہ ہونا ضروری ہے؛ کیا دیگ کی نذر ماننا ٹھیک ہے؟

جواب

صورت مسئولہ میں اگر دیگ کی نذر سے مراد دیگ میں کھانا پکوا کر اسے کھلانے یا کھانے کے لیے دینے کی نذر  ہے تو یہ نذر منعقد ہوجائے گی کیونکہ یہ صدقہ کی نذر ہے اور صدقہ عباداتِ مقصودہ میں سے ہے۔

فتاوی شامی میں ہے :

"(لزم الناذر) لحديث «من نذر وسمى فعليه الوفاء بما سمى» (كصوم وصلاة وصدقة) ووقف (واعتكاف) وإعتاق رقبة وحج ولو ماشيا فإنها عبادات مقصودة."

(كتاب الأيمان، مطلب في أحكام النذر، 3/ 735، ط : سعيد)

فتاوی شامی میں ہے :

"نذر أن يتصدق بعشرة دراهم من الخبز فتصدق بغيره جاز إن ساوى العشرة) كتصدقه بثمنه."

(كتاب الأيمان، 3/ 741، ط : سعيد)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144311101047
تاریخ14-06-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں