بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قرض خواہ کے انتقال کے بعد قرض کی ادائیگی کا طریقہ

سوال

ہم نے ایک شخص سے کچھ رقم بطورقرض لی  توجس نے ہمیں قرض دیا تھا وہ وفات پا چکا ہے.ہم لوگ یہ رقم کس کو ادا کریں بیوی کو،بیٹے کو، بیٹیوں کو،یا سب کو کچھ کچھ ادا کریں گے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں مرحوم کے انتقال کے بعد جس طرح ترکہ میں تمام ورثاء کاحق ہوتاہےاِسی طرح مذکورہ رقم جو کہ سائل پر قرض ہے اس میں تمام ورثاء کا اپنے شرعی حصوں کے اعتبار سےحق ہے،لہذا مرحوم کے ورثاء میں  سے کسی ایک وارث پر اگر  تمام ورثاء کااتفاق ہو، تو اسے دے دیں،اور اگرورثاء کا کسی ایک شخص پر اتفاق نہ ہو تو ہر وارث کو اس کا حصہ دے دیں،اور رقم ادا کرتے وقت احتیاطاً دوگواہ بھی مقرر کریں تاکہ بعد میں کسی قسم کی پریشانی نہ ہو۔

الفقہ الاسلامی وادلتہ میں ہے:

‌‌"الإرث لغة: بقاء شخص بعد موت آخر بحيث يأخذ الباقي ما يخلفه الميت. وفقهاً: ما خلفه الميت من الأموال والحقوق التي يستحقها بموته الوارث الشرعي."

(الفصل الأول، تعریف علم المیراث،10/ 7697،ط:دار الفکر)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144311100986
تاریخ13-06-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں