بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

موبائل کی قیمت پر قربانی

سوال

اگر کسی کے پاس 60000 والا موبائل ہو توکیااس پر قربانی کرنا واجب ہوگی یا نہیں؟

جواب

 واضح رہے کہ قربانی کرنا اس شخص پر واجب  ہے جس کے پاس حاجاتِ اصلیہ کے علاوہ   بقدرِنصاب (ساڑھے باون تولہ چاندی  یااس کی قیمت کا )مال  موجود ہو،صورتِ مسئولہ میں اگر موبائل استعمال کے لیے ہے اور اس کے علاوہ  حاجاتِ اصلیہ سے زائدبقدرِنصاب مال اس کی ملکیت میں  موجود نہیں ہے تو  محض اس موبائل کی وجہ سے مذکورہ شخص پر قربانی واجب نہیں ہے اور اگر  مذکورہ شخص کے پاس موبائل کے علاوہ حاجاتِ اصلیہ سے زائد بقدرِنصاب چاندی  مال بھی  ملکیت میں ہو تو اس صورت میں مذکورہ شخص پر قربانی واجب ہوگی۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

'' وشرائطها: الإسلام والإقامة واليسار الذي يتعلق به) وجوب (صدقة الفطر)،

(قوله: واليسار إلخ) بأن ملك مائتي درهم أو عرضاً يساويها غير مسكنه وثياب اللبس أو متاع يحتاجه إلى أن يذبح الأضحية، ولو له عقار يستغله فقيل: تلزم لو قيمته نصاباً، وقيل: لو يدخل منه قوت سنة تلزم، وقيل: قوت شهر، فمتى فضل نصاب تلزمه. ولو العقار وقفاً، فإن وجب له في أيامها نصاب تلزم''.

(كتاب الأضحية،ج:6،ص:312،ط:سعيد)

 فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144311100975
تاریخ13-06-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں