بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

گندم کے بھوسہ پر زکوۃ اور عشر کا حکم

سوال

گندم کا بھوسہ  بیچ کر اس کی زکات کیسے ادا کرے؟

جواب

اپنے کھیت کی گندم کے بھوسہ پر عشر واجب نہیں ہے،  لہذا  جب کٹائی کے بعد گندم میں عشر ادا کیاجائے گا تو گندم کے بھوسہ کا عشر الگ سے ادا نہیں کرنا ہوگا۔ نیز بھوسہ بیچ کر جو رقم حاصل ہوگی ،  زکوۃ کا سال مکمل ہونے پر اس پر زکوۃ واجب ہوگی بشرطیکہ  وہ شخص صاحب نصاب ہو اور وہ رقم سال کے اخیر تک سائل کے پاس موجود ہو، بھوسہ سے حاصل شدہ رقم سال کے دوران خرچ کرنے کی صورت میں اس رقم پر زکوۃ بھی واجب نہیں ہوگی لیکن اگر کوئی بھوسہ کا کاروبار کرتا ہو تو وہ بھی مال تجارت میں شمار ہوگا اور مال تجارت کے نصاب پر جب سال گزر جائے تو چالیسواں حصہ زکوٰۃ میں ادا  کرنا لازم ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(إلا فيهما) لا يقصد به استغلال الأرض (نحو حطب وقصب) فارسي (وحشيش) وتبن وسعف وصمغ وقطران وخطمي وأشنان وشجر قطن

قوله: إلا فيما لا يقصد إلخ) أشار إلى أن ما اقتصر عليه المصنف كالكنز وغيره ليس المراد به ذاته بل لكونه من جنس ما لا يقصد به استغلال الأرض غالبا وأن المدار على القصد حتى لو قصد به ذلك وجب العشر كما صرح به بعده."

(کتاب الزکوۃ باب العشر ج نمبر ۲ ص نمبر ۳۲۷،ایچ ایم سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144311100825
تاریخ11-06-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں