بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

داخلہ فیس لینے اور مہتمم کا اسے استعمال کرنے کا حکم

سوال

طلبہ سے مطلقاً لی گئی داخلہ فیس کا مصرف کیا ہے؟ کیا مہتمم اپنے ذاتی ضروریات میں خرچ کر سکتا ہے؟ 

جواب

صورتِ مسئولہ میں محض داخلہ فیس لینا جائز نہیں، کیوں کہ داخلہ فیس لینے کی کوئی معقول وجہ نہیں ہے، اس لیے کہ یہ کسی چیز کے عوض میں نہیں ہے، تا ہم  اگر  داخلہ کی کار روائی، امتحان، فارم اور عملہ کی خدمات کے عوض اس کام کی جتنی عموماً اجرت بنتی ہے اتنی ہی لی جائے تو اس کی گنجائش ہے، مگر ایسی حالت میں لی گئی رقم ادارہ کی انتظامیہ کے پاس جمع ہوں گی، اگر نجی اور شخصی ادارہ ہو تو یہ رقم مہتمم کی ملکیت ہو گی ،وہ اسے ذاتی خرچ میں استعمال کر سکے گا، بصورتِ دیگر مہتمم کے لیے یہ رقم استعمال کرنا جائز نہیں۔

کفایت المفتی میں ہے:

’’داخلہ کی فیس تو کوئی معقول نہیں، ماہوار فیس لی جاسکتی ہے۔‘‘

(کتاب المعاش، داخلہ اور ماہواری فیس کا حکم، 7/ 314،ط:  دار الاشاعۃ)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144311100679
تاریخ09-06-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں