بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مذی نکلنے سے پاکی کس طرح حاصل کرے؟

سوال

اگر مذی نکل جائے تو پاکی کس طرح حاصل کریں اور کیا حکم ہے؟

جواب

اگر مذی    جسم سے نکل جائے  چاہے شہوت کے وقت نکل جائے،   یا شہوت کے بعد،    یا بلاشہوت نکل  جائے، اس کے نکلنے سے صرف وضو ٹوٹتا ہے، غسل فرض نہیں ہوتا،اس  لیے صرف استنجا  کرکے وضو کرناکافی ہے،اور کپڑے کے اگر کسی حصے پر لگ جائے تو اتنی جگہ کو دھو لیں۔

  بخاری شریف میں نبی علیہ الصلاۃ والسلام کا ارشاد ہے:

      "عن علي قال: كنت رجلًا مذاءً فأمرت رجلًا أن يسأل النبي صلى الله عليه و سلم لمكان ابنته، فسأل، فقال: توضأ واغسل ذكرك." 

(أخرجه البخاري في «باب غسل المذي والوضوء منه» (1/ 105) برقم، ط: الهند) 

فتاوى ہندیہ   میں ہے:

 "المذي ينقض الوضوء." 

( كتاب الطهارة، الباب الأول في الوضوء،  الفصل الخامس في نواقض الوضوء، (1/ 10)،ط. رشيديه)

 فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144311100565
تاریخ07-06-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں