بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 جُمادى الأولى 1448ھ 21 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اللہ کے یہاں دیر ہے اندھیر نہیں کہنا کیسا ہے ؟

سوال

اللہ کے یہاں دیر ہے اندھیر نہیں کہنا کیسا ہے ؟ 

جواب

 ”اللہ کے یہاں دیر ہے اندھیر نہیں“ اس طرح کا جملہ نہیں کہنا چاہئے،  اللہ تعالی کی ذات و صفات ہر قسم کے نقص و کمی سے پاک ہیں، اور اللہ تعالی ہر کام کو اپنی مرضی کے مطابق اس کے وقت مقررہ پر انجام دیتے ہیں تو اللہ کے یہاں نہ دیر ہے نہ اندھیر۔

مسند احمد میں  حديث ہے:

"عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الخدري رضي الله عنه، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: (مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَدْعُو بِدَعْوَةٍ لَيْسَ فِيهَا إِثْمٌ، وَلَا قَطِيعَةُ رَحِمٍ، إِلَّا أَعْطَاهُ اللهُ بِهَا إِحْدَى ثَلَاثٍ: إِمَّا أَنْ تُعَجَّلَ لَهُ دَعْوَتُهُ، وَإِمَّا أَنْ يَدَّخِرَهَا لَهُ فِي الْآخِرَةِ، وَإِمَّا أَنْ يَصْرِفَ عَنْهُ مِنَ السُّوءِ مِثْلَهَا. قَالُوا: إِذًا نُكْثِر. قَالَ: اللهُ أَكْثَرُ)."

(مسند المكثرين من الصحابة، مسند أبو سعيد الخدري، 17/ 213، رقم: 11133، ط: الرسالة)

عقیدۃ طحاویہ میں ہے:

"لا يغيب ولا ينقص ولا يفنى ولا يعدم، بل هو الدائم الباقي الذي لم يزل ولا يزال، موصوفا بصفات الكمال. واقترانه بالحي يستلزم سائر صفات الكمال، ويدل على بقائها ودوامها، وانتفاء ‌النقص والعدم عنها أزلا وأبدا. ولهذا كان قوله: {الله لا إله إلا هو الحي القيوم} (البقرة: 255)،  أعظم آية في القرآن، كما ثبت ذلك في الصحيح عن النبي صلى الله عليه وسلم."

(شرح الطحاوية، تنزيه الله عن مشابهة مخلوقاته، من اسماء الحسنى اسم الحي القيوم 1/ 91، ط: الرسالة) 

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144311100563
تاریخ07-06-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں