بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کسی کا نام لیے بغیربرائی کرنا

سوال

کسی کی برائی کرتے وقت اس کا نام نہ لیں تو کیا وہ غیبت کہلائے گی؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں  کسی کا نام لیے بغیر اس کی برائی بیان کرنا غیبت نہیں کہلائے گی، تاہم اگر نام نہ لیا ہو لیکن کوئی ایسا اشارہ یا کوئی ایسی علامت بیان کر دی ہو کہ جس سے اس کی پہچان ہو جائے تو یہ صورت غیبت میں داخل ہو جائے گی۔

مرقاۃ المفاتیح میں ہے:

"وضابطه أن كل ما أفهمت به غيرك نقصان مسلم فهو غيبة محرمة."

(کتاب الآداب، باب حفظ اللسان والغیبۃ والشتم، ج:7، ص3032، ط:دار الفکر بیروت)

وفیہ ایضاً:

"وعن أبي هريرة - رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: " «أتدرون ما الغيبة؟ " قالوا: الله ورسوله أعلم. قال: " ذكرك أخاك بما يكره.....وذكرك فيه بما يكرهه عام، سواء كان في بدنه أو دينه أو دنياه أو نفسه أو خلقه.....سواء ذكرته بلفظك أو كتابك، أو رمزت أو أشرت إليه بعينك أو يدك أو رأسك ونحو ذلك."

(کتاب الآداب، باب حفظ اللسان والغیبۃ والشتم، ج:7، ص:3032، ط:دار الفکر بیروت)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144311100464
تاریخ06-06-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں