120 دن کے بعد حمل ضائع ہو اور نفاس کا خون نہ آئے تو نماز روزے کا حکم
سوال
اگر کسی عورت کا حمل 120دنوں کے بعد ضائع ہوجائے اور اس کے بعدنفاس والا خون بھی نہ آئے، تو اس عورت کے لیے نماز روزے کا کیا حکم ہے؟
جواب
نفاس کی زیادہ سے زیادہ مدت چالیس دن ہے ،نفاس کی کم سے کم کوئی مدت متعین نہیں ہے ،کبھی تو ایسا ہوتا ہے کہ خون آتا ہی نہیں ،کبھی تھوڑی دیر آکر بند ہوجاتا ہے ،کبھی ایک لمبے وقت تک جاری رہتا ہے، لہذا صورت مسؤلہ میں چار مہینہ کے حمل ساقط ہونے کے بعد اگر خون آیا ہی نہیں تو عورت غسل کرکے نمازیں شروع کردے اور اگر رمضان کا مہینہ ہے تو روزے رکھے۔
وفي الفتاوى الهندية:
"المرأة إذا ولدت ولم تر الدم هل يجب عليها الغسل والصحيح أنه يجب،كذا في الظهيرية."
(كتاب الطهارة، الباب الثاني في الغسل، الفصل الثالث في المعاني الموجبة للغسل 1/ 16 ط:دار الفكر)
وفي الدر المختار وحاشية ابن عابدين :
"(ظهر بعض خلقه كيد أو رجل) أو أصبع أو ظفر أو شعر، ولا يستبين خلقه إلا بعد مائة وعشرين يوما (ولد) حكما (فتصير) المرأة (به نفساء."
(رد المحتار، كتاب الطهارة، باب الحيض 1/ 302 ط:سعيد)
فقط والله أعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

