الحان نام رکھنا
سوال
میں نے اپنی بیٹی کا نام الحان رکھا ہے۔ کیا یہ نام اسلامی طور پر درست ہے؟
جواب
"اَلْحَان " عربی زبان کا لفظ ہے، جو لَحَن کی جمع ہے، جس کے معنی "دلکش، و سریلی آوازیں، لہجے، موسیقی کے سر" کے آتے ہیں، جب کہ عربی زبان میں لحن کا لفظ دیگر مختلف معانی میں بھی استعمال ہوتا ہے، جن میں سے ایک معنی ذہانت کے بھی آتے ہیں، لہذا صورتِ مسئولہ میں الحان نام اگرچہ رکھ سکتے ہیں، تاہم بہتر یہ ہے کہ بچوں کا نام رکھنے کے سلسلے میں انبیائے کرام علیہم السلام یا صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ،یا اللہ کے نیک اور برگزیدہ بندوں کے ناموں کو ترجیح دی جائے ۔نیز "اَلحَان" نام لڑکے کے نام کے مشابہ بھی ہے، لہذا احتراز بہتر ہے۔
جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن کی ویب سائٹ پر بہت سے اچھے اچھےاسلامی نام درج کردیے گئے ہیں ، وہاں سے بھی راہنمائی لی جاسکتی ہے۔
معجم اللغة العربیة المعاصرة میں ہے:
"لَحْن [مفرد] : ج ألحان ولُحون: (سق) صوت موسيقيّ موضوع للأغنية أو لقطعة موسيقيَّة "لَحْن شعبيّ/ راقصٌ/ وطنيّ/ حزين- ألحان نادرة- لَحْن ثنائيّ: يؤدّيه مغنيان أو عازفان.
صناعة الألحان: الموسيقا- لَحْن جنائزيّ: لَحْن حزين يُعزف أمام الجنائز- لَحْن رَعَويّ: لَحْن يمتاز بنغمات بطيئة رقيقة تمثّل الحياة الريفيّة التقليديّة.
لَحْن الشِّعْر: إيقاعه وغناؤه."
[٤٥٤٣ - ل ح ن، ( ٣ / ٢٠٠٢) ط: عالم الكتب)
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

